Friday

Main Sochta Hon


میں سوچتا ہوں

یونہی کسی دن

جو اپنی آنکھوں کو اُس کی چوکھٹ پہ چھوڑ دوں اور
حیاتِ فانی کی دسترس سے نکل کے باہر
میں جاودانی حیات کا جسم اُوڑھ لوں
تو۔۔۔۔؟

وہ میری آنکھوں کو اپنے چہرے پہ ٹانک لے اور
جہانِ فانی کی ہر دشا میں مجھے تلاشے
ہر اک کو روکے
ہر اک سے پوچھے
یہاں پکارے، وہاں پکارے
کوئی بھی لمحہ نہ چین کا اُس کے ہاتھ آئے
تو۔۔۔۔؟

اگر کبھی جب وہ آئینے پر نگاہ ڈالے
میں اُس کی آنکھوں سے اُس کو دیکھوں
وہ میری آنکھوں سے مجھ کو ڈھونڈے
مگر نہ کچھ بھی سراغ ملنے پہ فرطِ وحشت میں
میری آنکھوں کو نوچ پھینکے
تو۔۔۔۔۔؟؟





No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...