Friday

کیل مہاسوں سے نجات آسان



کیل مہاسوں سے نجات آسان 


کیل مہا سے بظاہر ایک معمولی سا مر ض ہے لیکن مریض کے لیے بہت سے پریشان کن نفسیا تی الجھا ﺅ کا باعث بنتا ہے ۔ نوجوانی کی پہلی سیڑھی چڑھتے ہی اکثر نو جوان خوا تین و حضرات کو یہ عارضہ لا حق ہو جا تاہے ۔ کیل مہا سے اکثر سولہ سے سترہ سال کی عمر میں شروع ہو تے ہیں ۔ یہ عموماً دونو ں گالو ں پر ہوتے ہیں ۔ صاف شفاف جلد ان کی وجہ سے بھاری لگتی ہے ۔ مریض بے بسی سے کبھی تو ان کو مختلف صابنوں سے دھو نے کی کوشش کر تا ہے یا ان پر مختلف پاﺅ ڈر اور کریمیں آزماتا ہے ۔ لیکن مرض بڑھتا ہی جا تاہے ۔ 
کیل مہا سو ں کو (ACNE ) کہتے ہیں جو یو نا نی زبان (AKME ) کا بگڑا ہوا تلفظ ہے ۔ اس کے لغوی معنی ہیں نقطے ۔ یہ مرض دنیا کے ہر خطے میں پایا جا تاہے ۔افریقہ میں کالی جلد والے لو گ اس سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ایشیا ،یو رپ اورمشرقِ وسطیٰ کے لوگ اس سے متاثرہو تے ہیں۔ 

کیل مہا سے نکلنے کی وجو ہا ت کچھ اس طر ح ہیں ۔ انسانی جسم میں سنِ بلو غت تک پہنچتے وقت بہت سی تبدیلیا ں رونما ہوتی ہیں ۔ انسان کے وہ غدود جو بچپن میں زیا دہ سر گرم نہیں ہو تے جوانی کے شروع میں زیادہ فعال ہو جا تے ہیں جس کے نتیجے میں ان میں سے بہت سے ہا رمو نز نکل کر جسم میں اپنا عمل شروع کر دیتے ہیں ۔ انسان کی کھا ل کے اندر با لو ں کے ساتھ ساتھ چکنائی پیدا کرنے والے غدود ہوتے ہیں جن کو (SEBACIOUS GLANDS )کہا جا تاہے۔یہ گلینڈز(ANDROGEN ) ہارمونز کے زیر اثر فعال ہو جا تے ہیں ۔ ان غدودوں کا اصل مقصد چہرے کی جلد کو مناسب چکنا ئی بہم پہنچانا ہو تاہے ۔ یہ چکنائی مناسب مقدار میں جِلد کو حفا ظت مہیا کر تی ہے۔ لیکن ہا رمونز کے زیرِ اثر جب غدود زیا دہ فعا ل اور سر گرم ہو جاتے ہیں ۔ تو یہی چکنائی ضرورت سے زیا دہ پیدا ہونے لگتی ہے۔ زیا دہ چکنائی چہرے کے ان خلیو ں (CELLS) سے جو مر دہ ہو کر قدر تی طور پر جھڑتے رہتے ہیں ، مل کر چہرے پر تہہ سی جما دیتی ہے ۔ اس کے نتیجے مساما ت بند ہو جا تے ہیں اور کالے سے نقطے ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ ان کو زبان ِ عام میں کیل کہا جا تا ہے۔ 
 اکثر یہ خیال کیا جا تاہے کہ یہ سیا ہی مائل نقطے یا کیل گرد وغبار اور دھول کے جمنے سے بنتے ہیں لیکن ان کی اصل وجہ خلیوں کا آپس میں کیمیائی عمل ہو تاہے ۔ ایک اورصورتِ حال میں چکنائی اور خلیو ں کی تہہ جلد کے اوپر کے حصے تک نہیں پہنچ پا تی بلکہ اندرونی حصہ تک محدود ہو جا تی ہے ۔ اس صورت میں کیلوں اور مہا سو ں کی بجائے ہلکے ہلکے گلا بی دانے نمودار ہو جا تے ہیں ۔
کیل مہا سے نہ صرف دیکھنے میں بڑے لگتے اور مریض کو نفیسا تی الجھن میں مبتلا رکھتے ہیں بلکہ مسلسل تکلیف کا سامنا رہتا ہے ۔ اس تکلیف کا با عث کیل مہاسو ں کی سوزش ہو تی ہے ۔ جو کیل مہا سو ں کی اوپر کی سطح پھٹنے اور رسنے سے ہو تی ہے۔ پھر کیل مہاسے زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔
کیل مہا سے اسی فی صد کیسو ں میں خود ہی ختم ہو جا تے ہیں بشر طیکہ مریض ان کو چھیڑنے سے اجتنا ب کرے اور ان کو نفسیا تی مسئلہ نہ بنالے ۔ لڑکو ں میں یہ عموماً چو دہ سے سترہ سال کی عمر اور لڑکیو ں میں سنِ بلو غت میں پوری شدت اختیا ر کرتے ہیں ۔ لڑکو ں میں اس مر ض کا حملہ عمو ماً زیا دہ شدید ہو تا ہے ۔ کبھی تو ان کا زور بہت زیا دہ ہو تا ہے اور کبھی کم لیکن بیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے کیل مہا سے خو د بخود ختم ہو جا تے ہیں ، اگر زیا دہ دیر تک رہیں تو بد نما دا غ دھبے چھوڑ جا تے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے ان کا علا ج شروع میں ہی ہو جا نا چاہیے ، لیکن علا ج کے لیے کسی قابل اورمستند ڈاکٹر کا انتخا ب کریں۔چند مریضو ںمیں کیل مہا سے شدت اختیا ر کر لیتے ہیں ۔ ا سکی پہلی اور سب سے بڑی وجہ تو ہے نفسیا تی یا جذبا تی دباﺅ۔ پھر مریض یا مریضہ کے دوست اور سہلیا ں اس کو ان بھدے پن کا احساس دلا تے رہتے ہیں اور اسے مجبو ر کر دیتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں سوچتا ہی رہے ۔ بعض نوجوان ان کو اپنی شخصیت میں عیب سمجھنے لگتے ہیں اور تنگ آکر مختلف ٹوٹکے آزما تے رہتے ہیں ۔آخرکا ر یہ خرا ب ہو جاتے ہیں ۔ انہیں دباتے اور ان میں سے مواد نکالتے رہتے ہیں ۔ اس سے ان کے داغ دھبے مستقل صورت اختیا ر کر لیتے ہیں ۔ بعض لو گو ں کی طبیعت میں ویسے بھی جذباتیت زیادہ ہو تی ہے اور وہ امتحا نا ت وغیر ہ کے نزدیک زیا دہ گھبرا جاتے ہیں اور اس صورت میں بھی مہا سو ں اور کیلو ں پر برا اثر پڑتا ہے ۔ اسی طر ح حیض کے دوران لڑکیوں میں یہ کیل مہاسے شدت اختیار کر لیتے ہیں کیو نکہ ان تمام حالتو ں میں ہارمونز زیا دہ پیدا ہو تے ہیں ۔ 

اکثر یہ خیال کیا جا تا تھا کہ چاکلیٹ ، کریم ، مکھن وغیرہ کھا نے سے ان دانو ں میں اضا فہ ہو جا تاہے ۔ یہ درست نہیں ۔ چند مخصو ص کیسو ں کے سوا مندرجہ بالا خوراکیں زیا دہ نقصان دہ نہیں ہو تیں۔ یہ با ت تو تسلیم شدہ ہے کہ متوازن غذا صحت کے لیے بہترین ہے اس لیے چاکلیٹ ، با لائی مکھن ، کریم وغیرہ اس مرض میں مضر نہیں لیکن اعتدال ضروری ہے۔ چند کیسوںمیں چکنا ئی والی خوراک مضر بھی ہو تی ہے ۔ اس لیے کسی حد تک پرہیز کرنا بہتر ہی ہے ۔ غذا سا دہ کھائیں۔سبزیا ں اور پھل زیادہ کھائیں ۔

 جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ، چہرے کی چکنا ئی والے غدود اس مرض میں زیاد ہ چکنائی پیدا کر نے لگتے ہیں ۔ اس لیے چکنی جلد کو دن میں دو تین با ر کسی اچھے صابن سے دھو ئیں اور پھر صاف تولیے سے تھپتھپا کر خشک کر لیں ۔ رگڑیں ہر گز نہیں زیا دہ زور سے رگڑنے سے یہ کیل مہا سے جلد کے اندر دھنس جا تے ہیں او ر ان کا علاج مزید مشکل ہو جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ چہرے کے نا زک روﺅں کا ٹوٹ جانا، زخم کا با عث بن جاتاہے جو کہ داغ دھبے چھوڑ سکتا ہے ۔ کیل مہا سو ں کی شدت سے تنگ آیا ہوا مریض کوئی نہ کوئی کریم کلینرز (CLEANERS) یا مو اسچرائیزر (MOISTERISERS ) وغیرہ استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ یا در کھیں ، میک اپ کی ہر چیز میں اور اوپر بیان کردہ اشیاءمیں بنیا دی جزو کوئی نہ کوئی روغن ہی ہو تا ہے۔ یہ روغن جسمانی چکنائی سے مل کر کیل مہا سو ں کی شدت میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں ۔ اس لیے کا سمیٹکس سے پرہیز لا زمی ہے ۔ چند کا سمیٹکس کو ان دانو ں کو چھپانے کے لیے استعمال کرلیں تو حرج نہیں۔ پھر بھی ان مخصوص کاسمیٹکس کا انتخا ب ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کریں ۔ آج کے دور میں ہم لو گ معیا ری چیز اسے سمجھتے ہیں جس کے اشتہا ر ہر روز اخبار و ں ، رسالو ں اور الیکٹرک میڈیا پر نظر آئیں ۔الیکٹرک میڈیا ہر گھرمیں موجود ہے ۔ بڑے دلکش اندا زسے کیل مہا سو ں کو ختم کر نے والی کریمو ں کو پیش کیا جا تا ہے۔ لڑکے اور لڑکیا ں ان سے متا ثر ہو تے ہیں اور ان کا استعمال شروع کر دیتے ہیں وہ نہیں جا نتے کہ ان میں ایسے اجزا مو جو د ہو تے ہیں جو فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اس قسم کی اشتہاری کریمو ں اور دیگر ادویا ت وغیر ہ سے بچیں ۔ 

بعض خوا تین مو چنے سے اپنے چہرے کے روﺅں کو نو چتی رہتی ہیں۔ یہ بھی اس مر ض کے بڑھنے کا ایک با عث ہے۔ ایک اور ضروری احتیا ط کا ذکر بھی لا زمی ہے ۔ کندھو ں پر بڑے بڑے تھیلے اور وزنی ہینڈ بیگ اٹھانے سے بھی اجتنا ب کریں کیو نکہ وزن پڑنے سے خلیو ں کی ٹوٹ پھوٹ ہو تی ہے۔ اس سے بھی مر ض کی شدت میں اضا فہ ہو تا ہے ۔ کیل مہاسوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے ۔ ان کو زیا دہ دبانے یا چھونے سے زخم بن جا نے اور گڑھے وغیرہ پڑجانے کا امکان ہو تا ہے اور پھر ساری زندگی یہ داغ دھبے پریشان کر تے رہتے ہیں ۔کبھی بھی سوئی یا کسی نوکدار چیز سے ان کو صاف کرنے کی کوشش مت کریں ۔ سورج کی شعا عیں ان مریضو ں کے لیے مفید ہیں ۔ صبح کے وقت تا زہ دھوپ میں چہل قدمی اور سیر بہت فائدہ مند ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جلدی سونے کی عادت ، آرام اور ذہنی سکون بھی بہت ضروری ہے ۔ یاد رکھیں ، ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے ۔ کیونکہ زیادہ دھوپ مضر بھی ہو سکتی ہے ۔ سور ج کی زر د کرنیں زیادہ مفید ہوتی ہیں ۔ سور ج کی روشنی میں (ULTRAVIOLET RAYS) مو جو د ہو تی ہیں ۔ ان کا استعمال بھی اس مر ض میں خاصا کا میا ب ہے لیکن ان کو کسی تجر بہ کا ر ما ہر ڈاکٹر کے زیر نگرانی استعمال کرنا چاہیے یہ شعا عیں چونکہ آنکھو ں کو نقصان دے سکتی ہیں اس لیے احتیا ط ضروری ہے ۔
جو جی چاہے کھائیں لیکن اعتدال کے ساتھ زیا دہ۔ مر چ ، مصالحے ، چٹ پٹی اشیا ءاور چکنائی وغیرہ سے پرہیز کریں ۔ کاسمیٹکس کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ اس کی اکثریت مضرِ صحت ہو تی ہے۔ چہر ے کودن میں دو تین مر تبہ دھوئیں لیکن رگڑیں نہیں صرف صاف شفاف تولیہ کی مددسے تھپتھپا کر صاف کر دیں ۔ ان کیلو ں کو ہر گز نہ چھیڑیں اور نہ ہا تھ لگا ئیں اور نہ ہی دبا کر ان کا مواد نکالنے کی کو شش کریں۔ علاج مستقل مزاجی سے آہستہ آہستہ ہو تاہے اور اس میں کچھ وقت لگتا ہے ۔ مایوس ہو کر علا ج ترک نہ کردیں ۔ صبر و تحمل سے علا ج جاری رکھیں۔

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...