Friday

آخر میاں بیوی کیوں نہیں سوچتے…؟؟؟


بے تکے سوالات مسائل کی جڑ:بعض گھروں میں بیوی اور شوہر کے درمیان جو کشیدگی رہتی ہے اس کے بنیادی اسباب میں سے ایک اہم سبب بیوی کے ذاتی معمولات یا خانگی امور سے متعلق ایسے مراحل جن کو بیوی ہی خوش اسلوبی سے نباہتی ہے ان میں شوہر کی بے موقع مداخلت یا بات بات پر کیوں…؟ کیا…؟ کیسے…؟ کہاں…؟ کب…؟ والے جملوں کی بھرمار کا ہونا جو بیوی کو انتہائی تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں۔ پھر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی منہ پھٹ‘ بدزبان اور زبان دراز ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ ذہن کا وہ چڑچڑاپن ہے جو شوہر کی طرف سے بے تکے سوالات کی بھرمار سے پیدا ہوا…

آخر شوہر صاحبان یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ تو دفتر جاکر بھی پنکھے کے نیچے رہتے ہیں اور یہ بے چاری عورت گھر میں ہوتے ہوئے بھی چولہے کی تپش میں رہتی ہے‘ گھر کی صفائی‘ کھانے کی تیاری‘ بچوں کو صاف ستھرا رکھنا‘ چھوٹا بچہ کہیں چوٹ نہ لگابیٹھے اس کا دھیان رکھنا اگر خالہ‘ پھوپھی آتی ہے تو اس سے بات چیت کرنا‘ دروازے پر آنے والوں کو جواب‘ اسکول یا مدرسہ سے آئے ہوئے بچوں کے ناز نخرے اٹھانا‘ فوری طور پر انہیں کھانے پینے کی کوئی چیز دینا‘ خود شوہر صاحب ہی کے کسی تازہ فون پر ملے ہوئے آرڈر پر عمل کرنا مثلاً یہ کہ میں شام چار بجے تک گھر آؤں گا اور فلاں کپڑے استری کرکے رکھ دینا‘ گھر آتے ہی تیار ہوکر فوراً کہیں جانا ہے۔
مذکورہ بالا اس جیسی بیسیوں مصروفیات اور الجھنوں میں گھری ہوئی بیوی اور ہر ہر بچے اور شوہر کا الگ الگ کام کرنے والی پر کیوں…؟ کیا…؟ کیسے…؟ کب…؟ کس لیے…؟ کی بوچھاڑ ہوگی تو وہ لازماً اکتائے گی…۔ اگر ساس نند گھر میں رہتی ہیں تو کبھی ان کی طرف سے بھی آپ کی بیوی کو کسی نا مناسب بات کو سننا پڑتا ہے۔ پھر دل کے بوجھ سمیت سارے کام پورے کرنا… اور اس کے علاوہ نند صاحبہ کی تحقیقات کہ مثلاً آج بھائی جان کے آنے سے پہلے بھابی صاحبہ کہاں جانے کیلئے تیار ہوئی بیٹھی ہیں؟
یہ کام کیوں نہیں کیا…؟ یہ کیسے ہوا…؟ کھانا کب ملے گا…؟ بچے کو کیا ہوا…؟ وغیرہ سوالات کی بوچھاڑ اس پر نہ فرمائیں کیونکہ اتنی چیزوں کو برداشت کرتی رہے گی اور منتظر ہوگی کہ جو اس کا اصل ہمدرد اور غم خوار ہے وہ آکر کچھ میٹھے بول بولے جس سے یہ تمام غم زائل ہوں… وہی شوہر آتے ہی کیوں؟ 
کیا؟ کب؟ کیسے؟ کہاں…؟ کون؟ کی بمباری کردے تو اس عورت پر کیا گزرے گی…‘‘
اگر آپ چاہتے ہیں کہ:اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اہلیہ نفسیاتی بیمار نہ ہو اور نفسیاتی بیماری ان مہلک طبعی بیماریوں کا سبب نہ بنے اور آپ کی بیوی بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے کے باوجود صحت مند اور تندرست رہے آپ کے بچے خوبصورت‘ ہونہار‘ اعلیٰ صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک ہوں تو اپنی طرف سے پوری کوشش کیجئے کہ آپ کی ذات سے آپ کی بیوی کو کوئی غم نہ پہنچے اور آپ پر اس کو اتنا اعتماد ہو کہ اپنی ہر الجھن کو آپ سے بلاتکلف کہہ سکے اندر ہی اندر نہ گھٹے۔
اپنی بیوی بچوں کی تمام جائز خواہشات جن جن کاموں کی اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ نے اجازت دی ہے کو پورا کرکے ان کے اندر امید بشاشت‘ بلند ہمتی حوصلہ‘ محبت کے جذبات پیدا کریں اپنی استطاعت کے موافق کبھی بھی اپنی بیوی کے اعتماد کو مت ٹھکرائیں‘ اس کی باتوں کو دھیان سے سنیں اور اس کو خوش رکھنے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں۔
تو انشاء اللہ وہ آپ پر بہت اعتماد کرنے لگے گی اور کئی جسمانی‘ نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رہے گی۔اس کی تندرستی میں آپ کی تندرستی پنہاں ہے اس کی خوشیوں میں آپ کی خوشی مضمر ہے۔
اچھی بیوی کی ذمہ داریاں:آنے والی بہو صاحبہ کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ میرے شوہر کے گھر والے بھی میرے ہی گھروالوں کی طرح ہیں۔ ساس، سسر کو والدین جیسا اور نندوں، دیوروں کو اپنے بہن ،بھائیوں کے جیسا سمجھنا چاہیے ان کا دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ایک اچھی بیوی اور مہذب خاتون کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نئے گھرکو اپنا اصل گھر سمجھے اور اپنے میکے سے زیادہ اپنےشوہر کے گھر اپنا دل لگائے۔ اگر کوئی چھوٹی موٹی بات بھی ہوجائے تو درگزر سے کام لیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اپنے ماں باپ کے گھر بھی بہن بھائیوں کے ساتھ شکررنجی اور ناراضگی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اس کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا جاتا یہی رویہ اگر شوہر کے گھر میں اور اپنے دیور‘ نند‘ ساس سسر کے ساتھ بھی رکھیں گے اور انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے تو خود بھی سکون میں رہیں گے اور آپ کا شوہر بھی آپ کی وجہ سے بہت سی اذیتوں سے محفوظ رہے گا۔

  بڑوں کو عزت سے بلائیں اور چھوٹوں سے پیار کریں۔ اگر گھر کا کوئی بزرگ روزے کی وجہ سے چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرے اور آپ سے غصے میں بات کریں تو ان سے پیارو محبت اور شائستگی سے بات کریں تو یہ عمل کرکے آپ گھر کے تمام افراد کے دل میں اپنی قدر پیدا کرسکتی ہیں۔ ایک اچھی بیوی کو یہ احساس ہونا چاہیے اس کا شوہر دن بھر کی سخت محنت کرکے پیسے کما کر لاتا ہے اس پیسے پر صرف بیگم صاحبہ کا ہی حق نہیں ہوتا بلکہ ان پیسوں پراُس کے والدین کا بھی حق ہوتا ہے اور دیگر حقوق بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔ ان حقوق کو پورا کرنے میں سمجھدار بیوی کو اپنے شوہر کی پوری پوری مدد کرنی چاہیے۔
ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیجئے: جب ہم شکوے، شکایت کررہے ہوتے ہیں در حقیقت ہم اللہ تعالیٰ پر الزام تراشی کررہے ہوتے ہیں۔ جب منعم حقیقی پر ہم اتنی بڑی جسارت کریں گے توسکون وراحت ہماری زندگیوں سے ختم ہوجائے گا۔ گھروں کو پرسکون اور مثالی بنانے کا بہترین حل صرف اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم ہر حال میں ہروقت اللہ تعالیٰ کی ذات کا سراپا شکر بنے رہیں۔ اس کی لذت اور شرینی ہم بخوبی محسوس کریں گے۔

No comments:

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...