Tuesday

سعد یہ یاد کب رہا ہم کو

سعد یہ یاد کب رہا ہم کو
ہمیں اس شخص کو بھلانا تھا
ہم کتنے کار آمد تھے
دکھ کتنے بے کار ملے
دل بھی کوئی آسیب کی نگری ہے کہ محسن
جو اِس سے نکل جاتے ہیں مُڑ کر نہیں آتے
 
کبھــــی تــــو بــــول مــــرے ساتھ روشنــــی کــــی زباں
میں طــــاقِ ہجــــر ہــــوں ، مجھ میں کوئــــی چراغ جلا
 
 
 

قتل امّید ہوئی جاتی ہے بیماروں میں

قتل امّید ہوئی جاتی ہے بیماروں میں
’’چارہ گر پھول پرو لائے ہیں تلواروں میں‘‘

اتنی آواز کرو پست جسے تم سُن لو
کان ہوتے ہیں سُنا آج بھی دیواروں میں

پھول کلیوں کے لئے کون سی دنیا لاؤں ؟
خار ہی خار نظر آتے ہیں گلزاروں میں

گو بڑھاپے کی طرف دوڑی جوانی جائے
نام لکھواؤ مرا اب بھی طرحداروں میں

اپنا ہم کھیل دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
زندگی موت سے لڑتے ہوئے کرداروں میں

میرے دشمن یہ بتا کب تُو مہرباں ہوگا
میں تو رہتا ہوں سدا تیرے طلبگاروں میں

زندگی چار دنوں کی ہی عطا ہے رب کی
بانٹ کر خوشیاں سدا آپ رہیں پیاروں میں

اپنے جیون میں کرو کام کوئی ایسا ’’خیال‘‘
حشر میں تم نہ گنے جاؤ گنہگاروں میں

شاعر: اسماعیل اعجاز خیال

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

میں اس کی گرد ہٹاتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

وہ آئینہ ہے، مجھے خود شناس کر دے گا
 
 
پھر نہ ہمت ہوئی سوالوں کی
اس قدر مختصر جواب ملا __!!
 

Matt Jaggana Hamein


Roman Urdu   رومن اردو

Matt Jaggana Hamei_n Ta'abeer Kaa Lallch Dekar
Abb Agr Khawab Se Paltey To Qayamat Ho Gee

Urdu   اردو

مت جگانا ہمیں تعبیر کا لالچ دے کر
اب اگر خواب سے پلٹے تو قیامت ہو گی

Mera Kia Haal Hai


Roman Urdu   رومن اردو

Mera Kiya Haal Hai Tere Binna Kabhi Daikh To Le_y
Jee Raha Hoon Tera Bhuula Hua_a Waada Bankar

Urdu   اردو

میرا کیا حال ہے تیرےبنا کبھی دیکھ تو لے
جی رہا ہوں تیرا بھولا ہوا وعدہ بن کر 
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...